Ads are placed to support costs of domain and hosting. All Ads are random and are not chosen by Nohay Lyrics: Sorry for any inappropriate ads.

Sakina Bibi Ka Janaza Urdu Lyrics | Syed Raza Abbas Zaidi


وہ شام کا زندان وہ غربت وہ اندھیرا

کرتے کا کفن اور سکینہؑ کا جنازہ

سجادؑ سے جب لاشہ بہن کا نہیں اُٹھا

لاشے پہ رباب آکے یہ کرنے لگیں نوحہ

اے بی بیوں تم میری مدد کرنےکو آؤ

مظلوم سکینہؑ کے جنازے کو اُٹھاؤ

سکینہؑ بی بی کا ہےجنازہ

اُٹھاؤ زینبؑ اُٹھاؤ فضہؑ

یہ رونے والی کا ہے جنازہ

اُٹھاؤ زینبؑ اُٹھاؤ فضہؑ

سکینہؑ بی بی کا ہےجنازہ

اُٹھاؤ زینبؑ اُٹھاؤ فضہؑ

ہیں ہاتھ اب بھی رسن میں اسکے

ہم ہی ہیں اب اس وطن میں اسکے

نہ جانے کب سے یہ تشنہ لب ھے

نمی نہیں ھے بدن میں اسکے

یہ میری پیاسی کا ھے جنازہ

اُٹھاؤ زینبؑ اُٹھاؤ فضہؑ

سکینہؑ بی بی کا ہےجنازہ

اُٹھاؤ زینبؑ اُٹھاؤ فضہؑ

یتیم بے کس غریب دکھیا

تھی کتنی مظلوم و بے سہارا

چچا کے سر کے قریب لاکر

پکڑ کے بالوں سے جسکو مارا

یہ اُس بھتیجی کا ھے جنازہ

اُٹھاؤ زینبؑ اُٹھاؤ فضہؑ

سکینہؑ بی بی کا ہےجنازہ

اُٹھاؤ زینبؑ اُٹھاؤ فضہؑ

وہ جسکی سوکھی ہوئی رگوں پر

چلا تھا کربوبلا میں خنجر

بھرا تھا تیروں سے اُسکا سینہ

ھے جسکو مارا رُلا رُلاکر

یہ اُسکی بیٹی کا ھے جنازہ

اُٹھاؤ زینبؑ اُٹھاؤ فضہؑ

سکینہؑ بی بی کا ہےجنازہ

اُٹھاؤ زینبؑ اُٹھاؤ فضہؑ

جلا ھے کرتا ہیں کان زخمی

گلے میں پیوست ہے رسن بھی

کہیں پہ کھایا تھا تازیانہ

کہیں یہ ناقے سے گر گئی تھی

یہ غم کی ماری کا ھے جنازہ

اُٹھاؤ زینبؑ اُٹھاؤ فضہؑ

سکینہؑ بی بی کا ہےجنازہ

اُٹھاؤ زینبؑ اُٹھاؤ فضہؑ

ملا جو پانی تو اسنے لاکر

گرایا عابدؑ کی بیڑیوں پر

کہیں سے چادر ملی تو پہلے

ہمیں اُڑھائی ھے اِسنے آکر

یہ سبکی پیاری کا ھے جنازہ

اُٹھاؤ زینبؑ اُٹھاؤ فضہؑ

سکینہؑ بی بی کا ہےجنازہ

اُٹھاؤ زینبؑ اُٹھاؤ فضہؑ

ھےاسکے بالوں میں بھی سفیدی

کمر بھی خم ہو چکی ھے اسکی

اِسے بھی دربار جب بلایا

پکڑ کے دیوار یہ چلی تھی

بتول جیسی کا ھے جنازہ

اُٹھاؤ زینبؑ اُٹھاؤ فضہؑ

سکینہؑ بی بی کا ہےجنازہ

اُٹھاؤ زینبؑ اُٹھاؤ فضہؑ

میں اسکی حالت بتاؤں کیسے

اب اور غربت سناؤں کیسے

تمہیں خبر ھے میں اسکی ماں ہوں

مدد کرو میں اُٹھاؤں کیسے

یہ میری بچی کا ھے جنازہ

اُٹھاؤ زینبؑ اُٹھاؤ فضہؑ

سکینہؑ بی بی کا ہےجنازہ

اُٹھاؤ زینبؑ اُٹھاؤ فضہؑ

جسے رہائی کی آرزو تھی

وہ اب ہمیشہ رہے گی قیدی

مدینے والے بھی رودئیے جب

رضا و ذیشان ماں پکاری

یہ شام والی کا ھے جنازہ

اُٹھاؤ زینبؑ اُٹھاؤ فضہؑ

سکینہؑ بی بی کا ہےجنازہ

اُٹھاؤ زینبؑ اُٹھاؤ فضہؑ

Leave a Reply

error: Content is protected By the Owner of Nohay Lyrics !!